نئی دہلی، 26 نومبر (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا)مینجمنٹ کوٹے میں خطیر رقم کی ادائیگی سے چار نجی میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے والے200 سے زیادہ طلبہ کے مستقبل پرسوالیہ نشان لگ سکتا ہے؛ کیونکہ و یاپم معاملے کی سی بی آئی کی جانچ میں ان انتخاب میں بے ضابطگیوں کا دعوی کیا گیا ہے۔حکام نے بتایاکہ جانچ ایجنسی سی بی آئی نے مدھیہ پردیش حکومت کو خط لکھ کر ان امیدواروں کے خلاف ضروری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جوطبی کالجوں میں داخلے کے لئے کسی داخلہ امتحان میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔حکام نے بتایا کہ یہ قدم مدھیہ پردیش کے و یاپم کی طرف 2012 میں کرائے گئے پری میڈیکل ٹیسٹ کی سی بی آئی کی طرف سے کی گئی جانچ پر مبنی ہے۔گذشتہ جمعرات کوایجنسی نے592 ملزمان کے خلاف گھوٹالے میں ان پر مبینہ طور پر ملوث ہونے کے تحت بھوپال میں واقع سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت میں چارج شیٹ دا خل کیا تھا۔ ان ملزمان میں چار نجی میڈیکل کالجوں کے چیئرمین بھی شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ پرموٹر میں ایل این میڈیکل کالج کے چیئرمین جے این چو کسے، پیپلز میڈیکل کالج کے ایس این وجے ورگیہ ، چرایو میڈیکل کالج کے اجے گوینکا، سبھی بھوپال کے ، اور اندور کے انڈیکس میڈیکل کالج کے سریش سنگھ بھدوریا شامل ہیں۔تین پرموٹر نے رابطہ کئے جانے پر کوئی ذاتی تبصرہ نہیں کیا، بھدوریا نے دعوی کیا کہ نہ تو ان کا اور نہ ہی ان کالج کا نام سی بی آئی کے الزام نامہ میں درج ہے ۔ سی بی آئی حکام نے بتایا کہ مبینہ طور پر قوانین کی خلاف ورزی کر کے کوٹہ نظام کے تحت ان چار کالجوں میں کل 229 طالب علموں کا داخلہ ہوا ہے جس کے لئے 50 لاکھ سے ایک کروڑ تک کی رقم وصول کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ توجہ دینے والی بات یہ ہے کہ کوٹہ نظام کے تحت جن طالب علموں کو داخلہ ملاہے وہ کسی بھی داخلہ امتحان میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ حکام نے بتایا کہ ان 229 داخلہ میں سے 88 انڈیکس میڈیکل کالج میں، 54 چرایو میڈیکل کالج میں، 46 پیپلز میڈیکل کالج میں اور 41 ایل این میڈیکل کالج میں ہونے کی بات سامنے آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ داخلہ ویاپم کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش حکومت کے میڈیکل محکمہ تعلیم کے حکام اور کچھ دلالوں کی مبینہ ملی بھگت سے انجام پایا ہے